Zahid Ahmed
Zahid Ahmed

Yes, it’s me Zahid Ahmed News By Daily karachi

zahid ahmed

کہتے ہیں ہمت مرداں مدد خدا، زندگی میں ایسے بہت سے مراحل آتے ہیں جب انسان مایوس ہو جاتا ہے اورہاتھ پیرچھوڑ کر بیٹھ جاتا ہے مگر کوشش سے کیا چیزممکن نہیں؟ آپ ہمت کریں تو خدا ساری مشکلات آسان کر دیتا ہے۔ اس کی جیتی جاگتی مثال پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے مشہورومعروف اداکارزاہد احمد ہیں جو اپنی پراثر شخصیت اور جاندار اداکاری کے باعث بےحد پسند کیے جاتے ہیں۔

Zahid Ahmed 4

زاہد محمود نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ’’فیس بک ‘‘ پر بنائے گئے اپنے آفیشل پیج پر اپنی ایک پرانی تصویر شیئرکی ہے ۔ پہلی نظر ڈالیں تو کوئی بھی یہ ماننے پر تیار نہیں ہو گا کہ یہ ان کی ہی تصویر ہے جس میں وہ اپنی عمر سے کہیں زیادہ بڑےاور موٹے دکھائی دے رہے ہیں کہ اگر ان کی حالیہ شخصیت سے موازنہ کیا جائے تو لگے گا کہ تصویر میں زاہد احمد کی عمرقریب پندرہ بیس برس آگے جا چکی ہے۔ مگر ایسا نہیں۔

زاہد احمد نے اس تصویرکوشیئرکرتے ہوئے مداحوں کے لیے اپنی کامیابی کی کہانی بھی بیان کی ہے، بقول ان کے سوشل میڈیا پر گردش کرتی میری اس تصویرسے متعلق سب پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ میں ہی ہوں؟ بالکل ایسا ہی ہے۔ لیکن بال گرنے کا حل نکالنے سے لیکر موٹاپا ختم کرنے تک میری کہانی میں اور بھی بہت کچھ ہے۔

zahid ahmed 3

خوبرو اداکار نے سال دو ہزار گیارہ سے لیکر آج تک کے حالات شیئر کرتے ہوئے اپنے آفیشل پیج پر لکھا کہ 2011 میں ایک آئی ٹی کمپنی کے لیے چیف آپریٹنگ آفیس کے طور پرکام کرتا تھا۔ اسی سال شادی ہوئی اور ہنی مون کیلئے ہم ملائیشیا گئے۔ ہنی مون کے آخری دن علم ہوا کہ آئی ٹی کمپنی ختم ہو چکی ہے ۔ پھر قرض کے بوجھ، اپنے مستقبل سےخوفزدہ دلہن کے ہمرا اور نوکری کے بغیر پاکستان واپس آگیا۔

zahid ahmed 5

زاہد احمد نے مزید بتایا کہ 2011 میں نوکری ڈھونڈتا رہا، 2012 میں خوفناک ایکسیڈنٹ کے نتیجے میں ریڑھ کی ہڈی اس بری طرح سے متاثر ہوئی کہ چار ماہ تک حرکت کرنے کے قابل بھی نہ رہا۔ اس سال اپنی آواز کی بدولت ایک ریڈیو شو کا موقع ملا اور اسی شو کے چکرمیں ریڑھ کی ہڈی مزید متاثرہوتی رہی کہ حرکت کرنے سے  قاصر ہوگیا اور شو بھی ہاتھ سے گیا۔

پھرپاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈٰیکل سائنسز (پمز) میں سرجری ہوئی اور کام کا دوبارہ آغاز کیا۔ پہلے سے دس فیصد کم تنخواہ پر نئی نوکری کا آغاز کیا۔ سخت محنت کرتارہا ، اس دوران شادی شدہ زندگی بھی داؤ پر لگی رہی۔

Zahid Ahmed 2

دو ہزار بارہ میں سرکاری ٹی وی پر ایک شومیں کام کرنے کا موقع ملا جس میں انگریزی فلموں سے متعلق بات کرنا ہوتی تھی۔ اس وقت کے ہیڈ نے میری انگریزی کو دیکھتے ہوئے فل ٹائم جاب آفر کی اس وقت سرکاری ٹی وی ’’پی ٹی وی ورلڈ‘‘  کا انگلش میں آغازہونے جا رہا تھا۔ 2013 میں چینل لانچ ہوا، پی پی حکومت ختم ہونے کے بعد سرکاری ٹی کے ہیڈ کو بھی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا۔

دوہزارتیرہ میں انور مقصود کی ٹیم نے ڈرامہ ’’سوا چودہ اگست‘‘ میں جناح کا کرداراداکرنے کیلئے رابطہ کیا۔ اس  دوران ہیئر ٹرانسپلانٹ کرایا اور 22 کلو وزن بھی کم کیا۔  2014 میں تھیٹر کرنا چھوڑ دیا کیونکہ پروڈیوسرکرپٹ تھا اوراس پر سب کی رقم واجب الادا تھی۔

zahid ahmed 7

کہانی یہیں ختم نہیں ہوتیں، مشکلات کا دورابھی باقی تھا۔ زاہد احمد نے مزید بتایا کہ 2014 میں نہ گھر تھا نہ ہی پیسہ بس کراچی کی سڑکوں پر بیوی کے ہمرا مرنے کیلئے آزاد تھا کہ اسی دوران نجی ٹی وی کی ایک پروڈیوسر جس نے مجھے تھیٹرکرتا دیکھا تھا، رابطہ کیا اور میں آڈیشن کے بعد ڈرامہ ’’محرم ‘‘ کے لیے منتخب کر لیا گیا۔  دوہزار سولہ تک میں اب جو ہوں آپ کے سامنے ہوں۔

zahid

اپنی کامیابی کی کہانی سنانے کا اختتام زاہد نے بہت ہی پراثرالفاظ میں کیا۔ ان کا  کہنا ہے کہ ’’اگر میری کہانی آپ کی ہمت نہیں بندھاتی، حوصلہ افزائی نہیں کرتی تو میں نہیں جانتا اور کیا چیز ایسا کرے گی۔ میں زاہد احمد ہوں، میں پرجوش ہوں اور میں مستقبل ہوں‘‘۔

LEAVE A REPLY