Such 'bad' habits that prove to you more intelligent than others
Such 'bad' habits that prove to you more intelligent than others

Such ‘bad’ habits that prove to you more intelligent than others

ایسا نظر آتا ہے کہ جدید سائنس ذہانت کے حوالے سے مخصوص اور روایتی رویوں کی نفی کرتے ہوئے ایسی عادات کے حامل افراد کو ذہین قرار دیتی ہے جن کا تصور کرنا مشکل ہے۔

ویسے اس بات سے اختلاف نہیں کہ ذہین افراد اپنے دیگر ساتھیوں کے مقابلے میں کافی مختلف ہوتے ہیں لیکن کیا ان میں اتنا فرق بھی ہوتا ہے؟

تو جانیں کہ جدید سائنسی رپورٹس میں کیسے رویوں کے حامل افراد کو ذہین قرار دیا گیا ہے جو اکثر افراد کو مضحکہ خیز یا ناقابل برداشت لگتے ہیں۔

ٹال مٹول کرنا

ویسے تو کسی چیز پر ٹال مٹول کرنا کوئی اچھی عادت نہیں مگر ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹال مٹول کی عادت صرف سستی کا نتیجہ نہیں بلکہ یہ کام کے لیے درست وقت کے انتظار کی نشانی بھی ہوتی ہے۔ آسان الفاظ میں یہ عادت تخلیقی صلاحیت کو بڑھاتی ہے تاکہ لوگ زیادہ بڑے خیال کو حقیقی شکل دے سکیں۔ ایپل کے شریک بانی اسٹیو جابز اس حوالے سے مثالی سمجھے جاسکتے ہیں جو مخصوص کاموں کو ٹالتے رہتے تھے اور درست وقت پر کام کرتے تھے۔

تاخیر پسند

ویسے تو کسی جگہ تاخیر سے پہنچنا ذاتی اور پروفیشنل تعلقات کو خراب کرسکتا ہے بلکہ لوگ اسے عدم احترام کی نشانی سمجھتے ہیں، مگر ایک تحقیق کے مطابق یہ بھی درحقیقت ذہین افراد کی نشانی ہے۔ تحقیق کے مطابق ایسے افراد پرامید ہوتے ہیں اور حقیقت پسند نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے وہ اکثر تاخیر کرتے ہیں، محققین کے مطابق ایسے افراد اچھی امید کے ساتھ بہترین نتائج کی توقع رکھتے ہیں۔

شکایات کرنے والے

کوئی بھی ایسا دوست پسند نہیں کرے گا جو کہ ہر وقت کسی با ت کی شکایت کرتا رہا ہو، مگر ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ایسے افراد درحقیقت زیادہ سوچ بچار کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کے ذہنوں میں اس عادت کا کوئی نہ کوئی نتیجہ ہوتا ہے، جبکہ زندگی میں زیادہ خوش باش بھی رہتے ہیں۔

چیونگم کے شوقین

ویسے تو کسی اہم ملاقات کے دوران منہ چلانا بدتہذیبی ہے مگر اکیلے بیٹھے ہوئے چیونگم سے لطف اندوز ہونا جسمانی سکون اور تخلیقی صلاحیت کو بہتر بنانے میں مدد دیتا ہے۔ مختلف تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ چیونگم ذہنی طور پر زیادہ الرٹ محسوس کرنے میں مدد دیتی ہے، ایک تحقیق میں یہ دریافت کیا گیا کہ ایسے افراد جو چیونگم چبانے کے عادی ہوتے ہیں، وہ ذہانت میں دیگر سے بہتر ہوتے ہیں۔

چغلیاں

ویسے یہ جواز نہیں کہ لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر کسی کی شخصیت کی چغلیاں کرنے لگے، مگر ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ عادت لوگوں کو زیادہ اچھا محسوس کرنے میں مدد دیتی ہے۔

خیالی پلاﺅ پکانا

ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دن میں خواب دیکھنے یا خیالی پلاﺅ پکانا کیرئیر کے لیے صلاحیت بہتر بنانے کے ساتھ تخلیقی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔ تحقیق کے مطابق کسی مشکل کے دوران اس کا حل دریافت کرنے کے لیے ذہن کو 12 منٹ کے لیے آزاد چھوڑ دینا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

سست ہونا

ایک امریکی تحقیق میں یہ دعویٰ سامنے آیا تھا کہ وہ لوگ زیادہ ذہانت کے حامل ہوتے ہیں جو اپنے خیالات میں گم رہنے اور جسمانی طور پر سست یا کم متحرک ہوتے ہیں۔ ویسے یہ عادت تو ہوسکتا ہے کہ بیشتر افراد میں ہو مگر یہ جان لینا بہتر ہے کہ اپنی سستی کو آپ زیادہ ذہانت کے ساتھ جوڑ سکتے ہیں۔

بھلکڑ ہونا

ویسے تو اچھی یاداشت کو عقلمندی کی علامت سمجھا جاتا ہے مگر ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا کہجو لوگ بھلکڑ ہوتے ہیں، ان میں بھی ذہانت کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ان کے بقول ایسے لوگوں کا دماغ اس لیے چیزوں کو بھول جاتا ہے تاکہ نئے حالات سے مطابقت پیدا کرسکے اور دوسرا یہ کہ چھوٹی اور غیر اہم اشیاءکی تفصیلات ذہن سے نکال کر کسی منظرنامے کی مکمل تصویر کو اجاگر کرے۔ تو اگر کچھ بھول جائے تو جھنجھلانے کی بجائے اس خیال سے خوش ہوسکتے ہیں کہ اس سے دماغ کو نئے خیالات کے لیے جگہ مل گئی ہے۔

بدزبان ہونا

درحقیقت توہین آمیز الفاظ کا منہ سے نکلنا بھی زیادہ ذہانت کی علامت ہے کم از کم کچھ تحقیقی رپورٹس میں تو یہی بات سامنے آئی ہے کہ ایسے افراد کا ذخیرہ الفاظ دیگر کے مقابلے میں زیادہ وسیع ہوتا ہے اور یہ زیادہ ذہانت کی ایک علامت ہے۔

لوگوں پر اعتماد کرنا

عقلمند افراد اکثر دوسروں پر اعتماد نہیں کرتے، مگر سائنسدانوں نے ثابت کیا ہے کہ ذہین افراد درحقیقت لوگوں پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ زندگی کو زیادہ بہتر انداز سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہ عادت اعصاب کو مضبوط بناکر مختلف امراض سے بھی بچاتی ہے۔

بلی پالنا

کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق جو لوگ بلی پالنا پسند کرتے ہیں وہ شخصی لحاظ سے پرسکون، زیادہ حساس اور زیادہ آئی کیو لیول کے حامل ہوتے ہیں، اس کے مقابلے میں کتوں کو پسند کرنے والے زیادہ متحرک، کھلی شخصیت اور قوانین پر عمل کرنے والے ہوتے ہیں۔

سرخ گوشت کو پسند نہ کرنا

ایک تحقیق میں یہ عجیب بات سامنے آئی کہ زیادہ ذہانت کے حامل افراد سرخ گوشت پر چکن، مچھلی اور سبزیوں کو ترجیح دیتے ہیں، تاہم ان غذائی ترجیحات کا انحصار مختلف حالات پر ہوتا ہے جیسے خاندان، صحت، عقیدہ اور رہنے کی جگہ وغیرہ شامل ہیں۔

خیالات کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام

ویسے تو لگتا ہے کہ ذہین افراد اکثر نئے خیالات کو سامنے لاتے ہیں مگر ایسا ہے نہیں، اکثر ایسا نہیں ہوتا، زیادہ ذہانت رکھنے والے افراد غیرروایتی حل سوچنے کی صلاحیت تو رکھتے ہیں مگر ان کا اطلاق زندگی میں کر نہیں پاتے، درحقیقت جب وہ زندگی میں کچھ نیا کرنا چاہتے ہیں تو ایک نیا آئیڈیا کے ان کے ذہن میں آجاتا ہے اور توجہ اس جانب مرکوز ہوجاتی ہے۔

کم سونا یا رات گئے تک جاگنا

ویسے کم سونے سے مراد بہت کم نیند نہیں، بلکہ ایک تحقیق کے مطابق جو لوگ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں، وہ کم سوتے بھی ہیں کیونکہ انہیں اپنے کام یا تعلیمی ادارے میں جانے کے لیے جلد اٹھنا پڑتا ہے۔ تو تحقیق کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد صبح جلد جاگنے والوں کے مقابلے میں آئی کیو لیول میں زیادہ آگے ہوتے ہیں یا یوں کہہ لیں کہ کافی زیادہ ذہین ہوتے ہیں۔

ناخن چبانا

ویسے تو اس عادت کو اعصابی تناﺅ کی نشانی تصور کیا جاتا ہے مگر حالیہ تحقیقی رپورٹس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بھی ذہانت کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق اس طرح کی عادت جیسے ناخن چبانا، بال یا جلد کو کھینچنا وغیرہ، لوگوں کو بیزاری سے لڑنے میں مدد دیتی ہے اور غیر اطمینانی کی کیفیت کو کم کرتی ہے۔ کسی چیز میں پرفیکشن کی طلب میں ایسا کرنا ذہانت کی علامت ہوتا ہے۔

LEAVE A REPLY