شہد کے فوائد 

سائنس نے شہد کو غذا اور دوا کے طور پر عالم انسانیت کے لیے مفید قرار دیا ہے ۔ عالمی ادارہ صحت نے بھی شہد کے عام استعمال کو اہمیت دی ہے اور جدید تحقیق سے بھی یہ ثابت ہوا ہے کہ شہد عالمی سطح پر منفراد دوا ء ہے ، جو وائر س کو ختم کرتی ہے ۔
حالیہ تحقیق کے مطابق شوگر کے مریض معالج کے مشورے سے شہد استعمال کرسکتے ہیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ پھلوں ، پھولوں ، جڑی بوٹیوں و دیگر اشیاء پر تحقیق ہوئی تو مزید شہد کے فوائد بھی کھل کر سامنے آئے ، شہد غذا کے علاوہ جسمانی بیماریوں کی ایک قدرتی دوا ہے جس میں شفاء ہے ۔



شہد اللہ تعالی کی ایک چھوٹی سی مخلوق مکھی کا لعاب ہے جس کے رنگ مختلف ہوتے ہیں ، جو آسانی سے ہضم ہوجاتا ہے ۔
شہد میں بہت سے کیمیاوی اجزاء پائے جاتے ہیں جن میں بعض معدنی نمکیات مثلاً فولاد، نحاس سوڈیم ، پوٹاشیم ، کیلشیم ، فاسفورس ، گندھک ، تانبا اور دیگر شامل ہیں ۔

زمانہ قدیم سے شہد کا استعمال اعضائے رئیسہ کے لیے دوا اور غذا دونوں اعتبار سے خاص ہے ۔ یہ جسم کی قوت مدافعت بڑھاتا ہے ۔ یہ دل کے امراض ، بواسیر ، نزلہ ، زکام ، منہ کے چھالے ، معدہ کی کمزوری وزخم ، ضعف جگر، کھانسی ، دمہ ، پھیپھڑوں کی کمزوری ، نمونیہ ، خون کی کمی ، آشوب چشم سمیت بے شمار بیماریوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ شہد کی افادیت سے آگاہی آپ کو صحت مند بنانے اور خوبصورتی قائم رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے ۔

بچوں کو چھوٹی عمر ہی سے شہد کا استعمال ضروری ہوتا ہے ، تاکہ ان کی نشوونما اور پرورش تیزی کے ساتھ ہو۔
چونکہ شہد ہڈیوں کے بڑھنے میں مؤثر ہے (ہڈیوں اور دانتوں میں کیلشیم کی کمی شہد سے پوری ہوتی ہے )۔
اس کے علاوہ شہد کو درج ذیل امراض استعمال کیا جاسکتا ہے ۔

امراض نزلہ : 

چائے کی پتی کا قہوہ بنا کر چوتھائی لیموں کارس اور شہد حسب ضرورت ملالیں ، صبح وشام استعمال کریں ۔

اکسیر دمہ : 
شہد میں کشتہ بارہ سنگھ ملا کر صبح و شام چٹائیں ۔
فلفل دراز ، ہڑ ، بہیڑہ کابرابر وزن سفوف بنا کر کھانے کے بعد مریض کو چٹائیں ۔

نمونیہ کے لیے : 
شہد 12گرام میں جند بدستر ایک گرام باریک پیس کر ملائیں اور وقفہ وقفہ سے چٹائیں ۔

بچوں کے دانت آسانی سے نکلنے کے لیے : 
شہد 12گرام میں سہاگہ بریاں ایک گرام بچے کو دن میں تین چار مرتبہ مسوڑھوں پر لگائیں ۔




موٹاپا دور کرنے کے لیے : 
شہد ایک گلاس نیم گرم پانی میں ملا کر صبح نہار منہ پئیں ۔
شہد میں دار چینی کا سفوف ملا کر سوتے وقت استعما ل کریں ۔

LEAVE A REPLY