Hajj And Umarh
Hajj And Umarh

Hajj And Umarh terms and their meaning News By Daily karachi

٭ استلام: حجر اسود کو بوسہ دینا اور ہاتھ سے چھونا یا حجر اسود اور رکن یمانی کو صرف ہاتھ لگانا۔

٭ اضطباع: احرام کی چادر کو داہنی بغل کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر ڈالنا۔
٭ طواف: بیت اﷲ کے چاروں طرف سات چکر مخصوص طریقے سے لگانا۔

٭ شوط: بیت اﷲ کے چاروں طرف ایک چکر لگانا۔
٭ رمل: طواف کے پہلے تین چکروں میں اکڑ کر شانہ ہلاتے ہوئے قریب قریب قدم رکھ کر ذرا تیزی سے چلنا۔
٭ مطاف: بیت اﷲ کے چاروں طرف طواف کرنے کی جگہ، جس میں سنگ مرمر لگا ہوا ہے۔

٭ رکن یمانی: بیت اﷲ کے جنوبی مغربی گوشے کو کہتے ہیں، کیوں کہ یہ یمن کی جانب ہے۔
٭ مقام ابراہیم: یہ جنّتی پتھر ہے، حضرت ابراہیمؑ نے اس پر کھڑے ہوکر بیت اﷲ کو بنایا تھا مطاف کے مشرقی کنارے پر منبر اور زم زم کے درمیان جالی دار قبے میں رکھا ہوا ہے۔
٭ ملتزم: حجر اسود اور بیت اﷲ کے دروازے کے درمیان کی دیوار جس سے لپٹ کر دعا مانگنا مسنون ہے۔

٭ زم زم: مسجد حرام میں بیت اﷲ کے قریب ایک مشہور چشمہ ہے، جو اب کنویں کی شکل میں ہے۔ جس کو حق تعالیٰ نے اپنی قدرت سے اپنے نبی حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی والدہ محترمہ کے لیے جاری کیا تھا۔
٭ دم: احرام کی حالت میں بعض ممنوع افعال کرنے سے بکری وغیرہ ذبح کرنی واجب ہوتی ہے، اس کو دم کہتے ہیں۔
٭ آفاقی: وہ شخص ہے جو میقات کی حدود سے باہر رہتا ہو، جیسے پاکستانی، مصری وغیرہ۔

٭ تلبیہ: لبّیک پورا پڑھنا۔ (لبیک اللھم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک و الملک، لا شریک لک)
٭ ایّام تشریق: ذی الحجہ کی گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں تاریخیں ایّام تشریق کہلاتی ہیں۔
٭ ایّام نحر: دس ذوالحجہ سے بارہویں ذوالحجہ تک ایام نحر کہلاتے ہیں۔

٭ جمرات: منیٰ میں تین مقامات ہیں، جن پر قد آدم کے برابر ستون بنے ہوئے ہیں، یہاں پر کنکریاں ماری جاتی ہیں، ان میں سے جو مسجد خیف کے قریب مشرق کی طرف ہے اس کو جمرۃ الاولیٰ کہتے ہیں، اور اس کے بعد مکہ مکرمہ کی طرف درمیان والے کو جمرہ الوسطیٰ، اور اس کے بعد والے کو جمرۃ الکبریٰ اور جمرۃ العقبہ کہتے ہیں۔
٭ رمی: کنکریاں پھینکنا یا مارنا۔
٭ سعی: صفا و مروہ کے درمیان مخصوص طریقے سے سات چکر لگانا۔

٭ مروہ: بیت اﷲ کے مشرقی شمالی گوشے کے قریب ایک چھوٹی سی پہاڑی ہے، جس پر سعی ختم ہوتی ہے۔
٭ میلین اخضرین: صفا و مروہ کے درمیان مسجد حرام کی دیوار میں دو سبز ٹیوب لائٹ لگی ہوئی ہیں، جن کے درمیان سعی کرنے والے دوڑ کر چلتے ہیں۔
٭ عرفات یا عرفہ: مکہ مکرمہ سے تقریبا نو میل مشرق کی طرف ایک میدان ہے، جہاں پر حاجی لوگ نویں ذوالحجہ کو ٹھہرتے ہیں۔

٭ یوم عرفہ: نویں ذوالحجہ جس روز حج ہوتا ہے تو حاجی لوگ عرفات میں وقوف کرتے ہیں۔
٭ موقف: ٹھہرنے کی جگہ: (حج کے افعال میں اس سے مراد میدان عرفات یا مزدلفہ میں ٹھہرنے کی جگہ ہے)
٭ وقوف: وقوف کے معنیٰ ٹھہرنا۔ اور احکام حج میں اس سے مراد میدان عرفات یا مزدلفہ میں خاص وقت میں ٹھہرنا۔

٭ میقاتی: میقات کا رہنے والا۔ (میقات وہ مقام ہے جہاں سے مکہ مکرمہ جانے والے کے لیے احرام باندھنا واجب ہے)
٭ حرم: مکہ مکرمہ کے چاروں طرف کچھ دور تک زمین حرم کہلاتی ہے، اس کے حدود پر نشانات لگے ہوئے ہیں۔ اس میں شکار کھیلنا، درخت کاٹنا وغیرہ حرام ہیں۔
٭ حل: حرم کے چاروں طرف میقات تک جو زمین ہے وہ حل کہلاتی ہے کیوں کہ اس میں وہ چیزیں حلال ہیں جو حرم کے اندر حرام تھیں۔
٭ حلق: سر کے بال منڈانا۔
٭ قصر: بال کتروانا۔

٭ ٖحطیم: بیت اﷲ کے شمالی جانب بیت اﷲ سے متصل قد آدم کے برابر دیوار سے کچھ حصہ زمین کا گھرا ہوا ہے اس کو حطیم اور حطیرہ کہتے ہیں۔ جناب رسول اﷲ ﷺ کے اعلان نبوت سے ذرا پہلے جب خانہ کعبہ کو قریش نے تعمیر کرنا چاہا تو سب نے یہ اتفاق کیا کہ حلال کمائی کا مال اس میں صرف کیا جائے، لیکن سرمایہ کم تھا اس وجہ سے شمال کی جانب اصل قدیم بیت اﷲ میں سے تقریباً چھے گز شرعی جگہ چھوڑ دی گئی، جسے حطیم کہتے ہیں۔ اصل حطیم چھے گز شرعی کے قریب ہے اب کچھ احاطہ زاید بنا ہوا ہے۔

LEAVE A REPLY