ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ نوجوانوں میں جولوگ کسی قسم کا سپلیمنٹ استعمال نہیں کرتے ان میں شیزوفرینیا کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے ۔ مچھلی کے تیل کے کیپسول یا مچھلی کا تیل انسانی صحت کے لئے بہترین ہے ۔ اسی لئے جو لوگ اپنی غذا میں اس کا استعمال نہیں کرتے ان کو چاہیے کہ وہ اس کے سپلیمنٹ ضرور استعمال کریں تاکہ دماغی بیماریوں سے محفوظ رہ سکیں ۔
ریسرچ کے مطابق مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹ لینے کا مطلب ہے کہ آپ اپنے آپ کو سنگین دماغی بیماریوں سے بچالیں ۔ مچھلی کے تیل کی گولیاں یا کیپسول ان نوجوانوں کے لئے بھی اچھی ثابت ہوسکتی ہیں جو دماغی طور پر پہلے سے کمزور ہیں ۔

ایک نئی تحقیق جونیچر کمیونیکیشن کی طرف سے کی گئی کہ مچھلی کے تیل کی شہرت ایک طاقتور سائیکاٹرک تھیراپی کے طور پر بھی ہے ۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ عام طور پر سالمن مچھلی یا میکریل میں پایاجاتا ہے ۔ اگر ان کیپسولز کو اپنی غذا کا حصہ بنالیا جائے تو یہ بہت بہترین اثر ڈالتا ہے اور یہ اینٹی ڈپریسنٹ بھی ثابت ہوتا ہے ۔ یہ جلد کے لیے بہت اچھا ہے اور جلد کو بھی دلکش اور حسین بناتا ہے ۔

مچھلی کے تیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ چکنائیوں میں سب سے بہترین چکنائی ہے ۔ یہ تیل مچھلی سے حاصل کیا جاتا ہے ، اس میں بڑی مقدار میں اومیگاتھری فیٹی ایسڈ پایا جاتا ہے ۔ یہ بات تمام تحقیقات سے ثابت ہو چکی ہے کہ یہ دل اور دماغ کی صحت کے لئے بہترین ہے اس کے علاوہ یہ اعصابی نظام کو بھی متحرک کرتا ہے ۔ مچھلی کے تیل کے سپلیمنٹ سے یہ بھی پایا گیاہے کہ اس سے یاداشت بھی اچھی ہوتی ہے اسی لئے اگر کسی کو بھولنے کا مرض ہے تو اس کی یاداشت میں بھی اس سے بہترین لائی جاسکتی ہے ۔

یہ فضائی آلودگی سے محفوظ رکھتا ہے 
کیا آپ یہ بات جانتے ہیں کہ مچھلی کے تیل کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ یہ آپ کے دل فضائی آلودگی سے بچاتا ہے ۔ یہ ایک امریکن تحقیق کے مطابق یہ بات بالکل سچ ہے 29صحت مند درمیانی عمر کے افراد کو چار ہفتوں تک تین گرام مچھلی کا تیل یا پلاسبو روزانہ دیاگیااور اس کے علاوہ ان کو خراب آلودہ فضاء میں دو گھنٹے کے لئے رکھا گیا ۔ تحقیق کاروں نے یہ پایا کہ ان لوگوں پر جنہوں نے مچھلی کا تیل استعمال کیا ان کی صحت پر وہ منفی اثراب نہیں مرتب ہوئے جو کہ ان لوگوں پر ہوئے جو کہ صرف پلاسبو استعمال کررہے تھے ۔ اومیگا تھری فیٹی ایسڈ سپلیمنٹس آپ کے دل کو فضائی آلودگی سے محفوظ رکھتا ہے ۔

یہ آرتھرائٹس کے خطرے کو کم کرتا ہے ۔
یونیورسٹی آف براسٹل کی تحقیقات کے مطابق اومیگا تھری فش آئل جوڑوں کے درد کے خطرے کو اور اس کی علامات کو کم کرتا ہے ۔ جن لوگوں کی غذا میں اومیگا تھری فش آئل شامل رہتا ہے ان میں اُن لوگوں کی نسبت آرتھرائٹس کی خطرہ ان لوگوں کی نسبت کم ہوجاتا ہے جو فش آئل استعمال نہیں کرتے ۔ آگر آپ روزانہ فش آئل استعمال کرتے ہیں تو آپ ہر قسم کے جوڑوں کے درد سے اپنی جان چھڑواسکتے ہیں یا کم از کم جوڑوں کی سوجن کو بہت حد تک کم کرسکتے ہیں ۔

یہ عمر کے اثرات کو زائل کرتا ہے 
تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ آپ کے خلیات کا نظام جب خراب ہونے لگتا ہے اور وہ خلیات کو دوبارہ نہیں بنا پاتا تو اس کے چہرے اور جسم پر عمر کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق فش آئل سے خون کا لیول اور ان خلیات کی یا کروموسومز کی کمی کا پانچ سال تک جائزہ لیا گیا تو اومیگا تھری فیٹی ایسڈ میں اس کی حفاظت کا عنصر پایاگیا ۔ جس سے یہ عمر کے اثرات کو زائل کرتا ہے ۔ یونیورسٹی آف کیلفورینا سان فرانسسکو نے 600مریضوں پر تحقیق کی اور یہ پایا کہ مریضوں میں مچھلی سے حاصل کیا گیا اور میگا تھری ایسڈ بلڈ لیول کو بڑھا کر ان مریضوں میں بھی جودل کی شریانوں کے مرض میں مبتلاء تھے اور خلیات کی ٹوٹ پھوٹ کے عمل کو بھی روک دیتا ہے ۔ اگر مچھلی کے سالن کو ہفتے میں دو دفعہ لیا جائے تو یہ عمل اومیگا تھری حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے ۔

زائد کو چکنائی کو جلاتا ہے 
یونیورسٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کی تحقیقات کے مطابق جو کہ انہوں نے جسم پر غذا اور ایکسر سائز کے اثراب پر کی ۔ انہوں نے پایا کہ فش آئل سپلیمنٹس اور ایکسر سائز مل کر چکنائی کو تیزی سے جلاتے ہیں ۔ اس اسٹدی کے دوران موٹے اور زیادہ وزن والے افراد کے نظام انہظام کوجائزہ بھی لیا گیا اور اس میں سب سے بڑا رسک دل کی بیماریوں کا تھا ۔ ان کو اومیگا تھری فش آئل کے ساتھ ساتھ ایروبک ایکسرسائز ہفتے میں تین دفعہ 12ہفتوں تک کروائی گئی ، جسم میں موجود چکنائی خاص کر پیٹ پر موجود چکنائی آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہوگئی ۔ ان دونوں کے ملاپ سے چکنائی گھٹنا شروع ہوگئی ۔ لیکن ان کی نہیں ہوئی جنہوں نے صرف فش آئل لیا یا صرف ایکسرسائز کی ۔

دماغی طاقت اور یاداشت کو بہتر بناتا ہے ۔
ریسرچز کے مطابق انسان کے ادراکی عمل اور فش آئل کے درمیان بہت اچھی مثبت دوستی ہے خاص کردماغی اسٹرکچر کے ساتھ ۔ اس مطالعے سے یہ بھی پتہ چلا کہ فش آئل کے استعمال کرنے والوں میں ادرا کی عمل بہت اچھا ہو جاتا ہے اور اس میں بہتری آتی ہے ۔ ایک منفرد چیز یہ پتہ چلی کہ ایک بہت واضح ہم آہنگی فش آئل اور دماغ کے ان حصوں میں پائی گی جو سوچنے اور یادر کھنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور دوسرے لفظوں میں فش آئل کے استعمال سے دماغ کے سکڑنے کے عمل کو بھی روکا جا سکتا ہے ۔ جن کی غذا میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کی کمی رہتی ہے ان کی دماغی صلاحیتیں زیادہ جلد ی متاثر ہونے لگتی ہیں اور یاداشت کی کمزوری کا بھی شکار ہو جاتے ہیں ۔

ہڈیوں کی صحت میں بہتری :
جب یہ ہڈیوں کی صحت کی بحالی کی طرف آتا ہے تو وہاں بھی صرف کیلشیم ، وٹامن ڈی اور میگنیشیم کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ اس کے لئے اومیگا تھری فیٹی ایسڈ DHہڈیوں کی صحت کے لئے انتہائی ضروری ہے ۔ ریسرچز اس کا موازنہ اومیگا DP A6اور اومیگا DHAسے کرتے ہیں جو کہ لمبی ہڈیوں کی نشوونما کے لئے بہت ضرور ہے ۔ رزلٹ سے پتہ چلا کہ جن لوگوں نے اپنی ڈائٹ میں اس کا استعمال رکھاان کی ہڈیوں کی صحت اور نشوونما میں بہتری پائی گئی ۔

LEAVE A REPLY