Do Not Eaten bubble
Do Not Eaten bubble

Do Not Eaten bubble By Daily Karachi

لاہور (ویب ڈیسک) ہوسکتا ہے بچپن میں آپ نے سنا ہو کہ چیونگم کو نگل جانا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے یا وہ آپ کے معدے میں کئی برسوں تک موجود رہ سکتی ہے۔
تاہم سائنس اس حوالے سے کیا کہتی ہے؟ تو اس کا جواب امریکن کیمیکل سوسائٹی کی ایک ویڈیو میں دیا گیا ہے۔
اس ویڈیو میں جسم کے نظام ہاضمہ کے مختلف مراحل کا جائزہ لے کر دریافت کیا گیا ہے کہ چیونگم کے کچھ ذرات تو ہضم ہونے سے بچ سکتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ برسوں تک معدے میں سالم حالت میں رہے گی۔
سادہ سی بات یہ ہے کہ جب آپ کوئی غذا کھاتے ہیں تو سب سے پہلے اسے چباتے ہیں۔اس کے بعد تھوک اور معدے میں موجود پروٹینز یا انزائمز اس غذا کو ٹکڑے کرنے میں مدد دیتے ہیں جب کہ معدے میں موجود ایسڈز تمام ذرات کو گلا دیتے ہیں اور وہ انٹریوں سے آسانی سے گزر جاتی ہے۔
تاہم چیونگم کسی عام غذا کی طرح آسانی سے ہضم ہونے کے لیے ڈیزائن نہیں ہوتی جس کی وجہ اس میں قدرتی یا سینیتھک ربڑ بیس کی موجودگی ہے جو اسے مسلسل چبانا فرحت بخش بناتی ہے۔
عام طور پر چیونگم بٹیل ربڑ سے تیار کی جاتی ہے جو کہ ایک سینیتھک ربڑ ہوتا ہے جو چبانے کے لیے مثالی سمجھا جاتا ہے۔
چونکہ دانتوں سے چبانے کے دوران چیونگم کو کوئی اثر نہیں ہوتا تو جب اسے نگلا جاتا ہے تو یہ ایک پورے ٹکڑے کی شکل میں غذائی نالی میں جاتی ہے۔اس کے بعد معدے میں موجود پروٹینز کاربوہائیڈریٹس، آئلز وغیرہ کو الگ کردیتی ہے مگر اس کی ربڑ کی بنیاد اس سے محفوظ رہتی ہے۔
تیسرے مرحلے میں معدے میں موجود ایسڈز بھی اس ربڑ کا کچھ بگاڑنے سے قاصر رہتے ہیں جس کے نتیجے میں چیونگم کے کچھ حصے غذائی نظام میں بچ جاتے ہیں۔تاہم مکئی یا متعدد ایسی اشیاء ہیں جو مکمل طور پر معدے میں گھلتی نہیں تو چیونگم غذا ہضم کرنے کے عمل سے تو بچ جاتی ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں آپ کے مسلز اسے بتدریج جسم سے ایک سے دو روز میں باہر نکالنے سے قاصر رہتے ہیں۔
مزید تفصیلات آپ ویڈیو دیکھ کر بھی جان سکتے ہیں۔

LEAVE A REPLY